الجواب حامداً ومصلیاً
فصل کی تیاری پر آنے والے اخراجات منہا کیےبغیر عشر ادا کیا جائے،جب کسان عشر ادا کرکے اللہ تعالی کا حکم پورا کرے گا تو اللہ کریم بھی رزق میں اضافہ و برکت دے گا۔انشاءاللہ ۔ البتہ جہاں تک مقروض کا تعلق ہے تو اگر زمیندارمستحق زکاۃ ہو تو اپنی پیداوار کا عشر خود بھی استعمال کرسکتا ہے۔
لما فی بدائع الصنائع: (2 /185 ،رشیدیہ )
“ولا يحتسب لصاحب الأرض ما أنفق على الغلة من سقي، أو عمارة، أو أجر الحافظ، أو أجر العمال، أو نفقة البقر. “
وفی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: ( 23/289 ،علوم اسلامیہ )
ذهب الحنفية إلى أن العشر أو نصفه على التفصيل المتقدم يؤخذ من كل الخارج، فلا يطرح منه البذر الذي بذره ولا أجرة العمال أو كري الأنهار أو أجرة الحافظ ونحو ذلك بل يجب العشر في الكل. “
وفی التاتارخانیہ : (3 /292 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
” وان کان من علیہ العشر فقیرا محتاجا الی العشر فترک ذلک علیہ جائز، وکان صدقۃ علیہ. “
وکذا فی البحرالرائق : (2 /416 ،رشیدیہ ) وکذافی المحیط البرھانی: (3 /290 ،دار احیاء التراث )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (3 / 1894، رشیدیہ) وکذا فی الھندیہ: (1 /187 ،رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14-09-1440، 2019-05-20
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :62