سوال

علماء کے جنازہ پر اکثر یہ کہا جاتا ہے “موت العالِم موت العالَم ” یہ حدیث ہے یا مقولہ ؟ اگر یہ مقولہ ہے تو کن کا ہے ؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

” مَوْتُ الْعَالِمِ مَوْتُ الْعَالَمِ ” سے متعلق مولانا رضوان الدین معروفی صاحب اپنی کتاب ” عُمْدَۃُ الْاَقَاوِیْلِ فِی تَحْقِیْققِ الْاَبَاطِیْلِ “ کے صفحہ (379) پر نقل فرماتے ہیں :
” یہ عبارت حدیث نبوی نہیں ہے ، کسی شخص کا قول ہے ذخیرہ احادیث میں اس کا ذکر نہیں ملتا ، ہاں اس کا مضمون اپنی جگہ صحیح ہے کہ عالِم کی موت اتنا بڑا خسارہ ہے کہ اس کو عالَم کی موت کہنا بجا ہے ، اس قسم کا مضمون جس سے عالَم کی موت کا خسارہ ہونا بعض دوسری روایات میں وارد ہے ۔

(عمدۃ الاقاویل فی تحقیق الاباطیل : 379 ، معروفی کتب خانہ )

اس مقولہ کے ہم معنی روایات ذیل میں ملاحظہ ہوں :
فی مجمع الزوائد و منبع الفوائد للھیثمی :
“عن عائشۃ رفعتہ ، قال: موت العالِم ثلمۃ فی الاسلام لا تسد ما اختلف اللیل و النھار . “
و فیہ ایضا :
و عن انس بن مالک ، قال : قال النبیﷺ : ان مثل العلماء فی الارض کمثل النجوم فی السماء یھتدی بھا فی ظلمات البر و البحر ، فاذا انطمست النجوم او شک ان یضل الھداۃ
(مجمع الزوائد و منبع الفوائد :1 / 276 ، دار الکتب العلمیہ )
و فی المستدرک علی الصحیحین للحاکم :
“عن ابن عباس، رضي الله عنهما في قوله عز وجل {أولم يروا أنا نأتي الأرض ننقصها من أطرافها} [الرعد: 41] قال: موت علمائها وفقهائها «هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه».”
( المستدرک علی الصحیحین : 2 / 460 ، قدیمی کتب خانہ )
و کذا فی شعب الایمان للبیھقی: ( 2 / 268 ، دار الکتب العلمیہ )
و کذا فی کنز العمال للھندی : ( 10 /68 ، 65 ، رحمانیہ )
و کذا فی المقاصد الحسنة للسخاوی : ( 56 ، النوریہ الرضویہ )
و کذا فی مسند الفردوس للدیلمی : ( 4 / 73 ، دار الکتب العلمیہ )
و کذا فی المستدرک علی الصحیحین : ( 2 / 460 ، قدیمی کتب خانہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/05/1440 ، 2019/02/04
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :121

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔