سوال

عورت جہری نمازوں میں مثلاًفجر،مغرب اور عشاء میں جہری قرأت کر سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کے لیے کسی بھی نماز میں جہرا قرأت درست نہیں۔

لما فی الشامیہ: (1 /504 ،سعید)
ولا تجھر فی الجھریۃ،بل لو قیل بالفسادبجھرھالأمکن بناء علی أن صوتھا عورۃ
وفی عمدة القاری:(7/279،بیروت)
فلیسج الرجال ولیصفق النساء)وانما کرہ لھا التسبیح لان صوتھافتنۃولھذا منعت من الاذان والاقامۃ والجھر بالقراءۃ فی الصلاۃ
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/227،حقانیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(16/190،علوم اسلامیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 1/ 267 ، رشیدیہ)
وکذا فی اعلاءالسنن:(5/58،ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذافی بذل المجھود:(5/166،قدیمی)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /470 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر؛29 فتوی نمبر:133

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔