الجواب حامداً ومصلیاً
عورت کا عورت کے لیے ستر دو طرح کا ہے غلیظ اور خفیف۔ستر خفیف اتنا ہے جتنا ایک مرد اپنی محارم عورتوں کا ستر دیکھ سکتا ہےاور ستر غلیظ وہ ناف سے لے کر گھٹنے تک کا ہے۔عورت،عورت کا بوقت ضرورت ستر خفیف تو دیکھ سکتی ہے،مگر ستر غلیظ کو بغیر شدید مجبوری کے دیکھنا جائز نہیں۔
لما فی الفتاوی التاتارخانیة: (18 /19 ،فاروقیہ)
وعن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی أن نظرالمر أۃ الی المر أۃ کنظر الرجل إلی محارمہ
وفی فی فتح القدیر: ( 10/ 37 ، رشیدیہ)
قولہ:(وعن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی أن نظرالمر أۃ الی المر أۃ کنظر الرجل إلی محارمہ)یعنی لا تنظر الی ظھرھا وبطنھا،وھذا معنی قول صاحب الکافی: حتی لا یباح لھاالنظرالی ظھرھاوبطنھا
و فی المبسوط:(10/147،بیروت)
فأما نظرالمرأۃ فھوکنظر الرجل الی الرجل باعتبارالمجانسۃألاتری أن المرأۃتغسل المرأۃ بعد موتھا کما یغسل الرجل الرجل وقد قال بعض الناس نظرالمرأۃالی المرأۃ کنظرالرجل الی ذوات محارمہ حتی لا یباح لھاالنظرالی ظھرھاوبطنھا
وکذا فی الھندیة: (5 /327 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/25،بیروت)
وکذا فی الھدایة:(4/463،رحمانیہ)
وکذا فی البدائع:(4/299،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(40/359،علم اسلامیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(4/2656،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/2023/20/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:6