الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مسؤلہ میں اگر عورت کے پاس دو گواہ ہیں توطلاق واقع ہوجائےگی،اگرگواہ نہیں تو مرد سے قسم لی جائے گی،اگر مرد قسم نہ اٹھائے تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر قسم اٹھا لے تو طلاق واقع نہیں ہو گی۔
لما فی الشامیہ: (3 /251 ،سعید)
ویقع قضاء الا ان یکون مکرھاوالمرأۃ کالقاضی اذا سمعتہ أوأخبرھاعدل لایحل لھاتمکینہ،والفتوی علی انہ لیس لھا قتلہ،ولا تقتل نفسھابل تفدی نفسھا بمال أو تھرب،کماانہ لیس لھا قتلھا إذاحرمت علیہ وکلما ھرب ردتہ بالسحر،وفی البزازیہ عن الاوزجندی انھا ترفع الأمر للقاضی،فان حلف ولا بینۃ لھا فالاثم علیہ ،قلت :ای اذالم تقدرعلی الفداء اوالھرب ولا علی منعہ عنھا فلا ینافی ما قبلہ
وفی السنن الکبری:(10/428،دارالکتب العلمیة)
عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ألنبیﷺقال: البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ
وکذا فی البحرالرائق: (3 /448 ،رشیدیہ
وکذا فی الھندیة: (1 /354 ،رشیدیہ
وکذا فی حاشیةالصحیح لمسلم:(2/84،رحمانیہ)
وکذافی مشکوةالمصابیح:(2/337،رحمانیہ)
وکذا فی تبین الحقائق:(2/198،امدادیہ)
وکذا فی مرقاةالمفاتیح: (7 /326 ،التجاریة)
واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:56