الجواب حامداً ومصلیاً
بذریعہ عول وراثت کی تقسیم میں کوئی غلطی نہیں ہے،بلکہ یہ طریقہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کےعمل سے ثابت ہے،نیز عول کے ذریعےقرآن کریم کے بیان کردہ حصص میں کوئی کمی نہیں کی جاتی، بلکہ ہر وارث کے لئے اولاً وہی حصص متعین کیے جاتے ہیں،لیکن ترکہ کم ہونے کی وجہ سے تمام اصحاب فروض کو مکمل متعینہ حصہ دینا چونکہ ممکن نہیں ہوتا،اس لیے بعض کو محروم کر کے دوسروں کا حصہ مکمل کرنے کے بجائےبذریعہ عول سب کے حصص میں خاص تناسب سے کمی کر دی جاتی ہے،جیسا کہ اگر میت کے ذمے کثیر دین ہواور ترکہ کم ہوتو تمام قرض خواہوں کے واجب الوصول دیون میں خاص تناسب سے کمی کر کے بقیہ رقم ادا کر دی جاتی ہےاور یقیناً یہی عین انصاف ہے۔
آپ کے بقول اگر عول کے طریقہ میں غلطی ہے تو تقسیم میراث کا صحیح طریقہ آپ بتلادیں۔اگر کسی کو محروم کریں تو یہ اس کے ساتھ ظلم و نا انصافی ہو گی اور اس طرح نصوص کی مخالفت بھی لازم آئے گی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لئے منبر پر تشریف فرما تھے دوران خطبہ کسی نے سوال کیا کہ ایک شخص ہے، اس نے ورثہ میں ایک بیوی دوبیٹیاں والد اور والدہ چھوڑے تو بیوی کو کتنا حصہ ملے گا،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فی الفور ساری تفصیل بتا دی کہ ترکہ کے 27 حصے کر کے بیوی کو تین حصے دیے جائیں گے،اس نے اعتراض کیا کہ قرآن کریم میں تو بیوی کا حصہ ثمن بیان کیا گیا ہے اور آپ تسع دے رہے ہیں،حضرت علی رضی اللہ عنہ نےفی البدیہ جواب دیا ”صار ثمنھا تسعا“۔
لما فی المصنف لابن ابی شیبہ:(6/260،بیروت)
حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن رجل لم يسمه قال:ما رأيت رجلا كان أحسب من علي سئل عن ابنتين وأبوين وامرأة فقال:”صار ثمنها تسعا” قال أبو بكر فهذه من سبعة وعشرين سهما للابنتين ستة عشر وللأبوين ثمانية وللمرأة ثلاثة
وفی الفتاوى الهندية:(6/468،رشیدیہ)
العول هو زيادة السهام على الفريضة فتعول المسألة إلى سهام الفريضة ويدخل النقصان عليهم على قدر حقوقهم لعدم ترجيح البعض على البعض كالديون والوصايا إذا ضاقت التركة عن إيفاء الكل فإنها تقسم عليهم على قدر أنصبائهم ويدخل النقص على الكل كذا هذا كذا في الاختيار شرح المختار
وکذافی اعلاء السنن:(18/403،404،ادارة القرآن)
وکذافی حاشیة السراجی:(52،بشری)
وکذافی الشریفیة:(57،قدیمی)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7820،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(20/273،فاروقیہ)
وکذافی الشامیة:(10/570، رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(9/410، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(3/48،علوم اسلامیہ)
وکذافی السنن الکبری للبیھقی:(6/414،بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 65