سوال

عید الاضحی سےتقریبا آٹھ، نو مہینے پہلے جانور کو خرید لیا جاتا ہے، اس نیت سے کہ عید الاضحی کے موقع پر اس کو بیچ دوں گا اور اس شخص کی ہر سال یہی ترتیب ہے، یا اسی طرح اپنے گھر کی بکریوں میں یہ نیت کی جاتی ہے کہ جب ضرورت پڑے گی ان کو بیچ دوں گا، چناچہ ان میں کچھ بکرے یا بکریاں، عید الاضحی کے موقع پر بیچی بھی جاتی ہیں۔ان کے بارے میں زکاۃ کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

گھر کی پالتو بکریوں میں تو زکاۃ نہیں۔البتہ جو بکریاں بیچنے کے لیے خریدی جاتی ہیں، اگر ان کا مالک صاحب نصاب ہو (خواہ پہلے سے یا بکریاں خریدنے کے بعد)تو ان پر زکاۃ آئے گی ورنہ نہیں۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار: (1 / 397،رشیدیہ )
” (قولہ ولو للتجارۃ)ای لو اسامھا بقصد التجارۃ ففیھا زکاۃ التجارۃ ای الذھب والفضۃ ولایعتبر عددھا بل تجب زکاتھا وان کانت علوفۃ کما یاتی . “
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/ 361، الطارق)
فلو اشتری مواشی للتجارۃ ثم جعلھا سائمۃ اعتبر اول الحول من وقت جعلھا للسوم، ولو باعھا قبل انتھاء الحول بدراھم او ماشیۃ ضم الثمن الی جنسہ، فیضم الدراھم الی الدراھم، والماشیۃ الی الماشیۃ
وکذافی الشامیہ: (3 /235و245 ، دار المعرفہ)
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر: (2 / 225الی 230، رشیدیہ)
وکذافی مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی: ( 717 ، قدیمی)
وکذا فی الھندیہ: (1 / 179،رشیدیہ )
وکذافی المحیط البرھانی: (3 / 165، دار احیاء التراث)
وکذا فی المبسوط: ( 2/190 ،دار المعرفہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27-06-1440، 2019-03-05
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :94

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔