الجواب حامداًومصلیاً
حضور اکرمﷺ نے متعدد احادیث میں فرض نمازوں کے بعد دعا کی ترغیب دی ہے اور اس کو قبولیت دعا کے مواقع میں شمار کیا ہے اور فقہاء امت نے فرض نمازوں کے بعد دعا کو مستحبات میں شمارکیا ہے ، لیکن اجتماعی دعا ثابت نہیں ،البتہ اگر سنت یا مستحب سمجھے بغیر اجتماعی دعا مانگ لی جائے یا پھر اجتماعی دعاوالی صورت بن جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ،اس میں امام اور مقتدی کو ایک دوسرے کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔
لمافی جامع الترمذی 🙁 2/ 662، رحمانیہ)
عن ابی امامۃ قال قیل یا رسول اللہ ای الدعاء اسمع ۔۔۔۔ قال جوف اللیل الاخر و دبر الصلوات المکتوبات۔
وفی فیض الباری:(6/225، رشیدیہ)
لا ریب ان الادعیۃ دبر الصلوات قد تورات تواترا لا ینکر اما رفع الایدی ، فثبت بعد النافلۃ مرۃ او مرتین فالحق بھا الفقھاء المکتوبۃ ایضا و ذھب ابن تیمیۃ و ابن القیم الی کونہ بدعۃ بقی ان المواظبۃ علی امر لم یثبت عن النبیﷺ الا مرۃ او مرتین کیف ھی ؟ فتلک ھی الشاکلۃ فی جمیع المستحبات ، فانھا تثبت طورا فطورا، ثم الامۃ تواظب علیھا نعم نحکم بکونھا بدعۃ اذا افضی الامر الی النکیر علی من ترکھا۔
وکذافی مجمع الزوائد :(10/194،دار الکتب العلمیة)
وکذافی فتح الباری:(11/160،قدیمی)
وفیہ ایضا :(11/160،قدیمی)
وکذافی اعلاء السنن :(3/194،علووم اسلامیہ)
واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/1443-2021/11/19
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:115