الجواب باسم ملھم الصواب
قبر پر ٹہنی گاڑنے کا جواز اگرچہ احادیث سے ملتا ہے، اور وہ یہ کہ پوری حیاتِ طیبہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ دو صحابہ کی قبر پر ٹہنی گاڑی تھی، مگر آج کل جس طرح اس کا اہتمام اور رواج ہوچکا ہے وہ یقیناً غیرشرعی ہے، اس لئے اس سے بچنا چاہئے۔
لما فی صحیح البخاری:(1/34الی 35،ط: قدیمی)
عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما قال:مر النبی صلی اللہ علیہ و سلم بحائط من حیطان المدینۃ اومکۃ فسمع صوت انسانین یعذبان فی قبورھما فقال النبی صلی اللہ علیہ و سلم یعذبان و مایعذبان فی کبیر ثم قال:بلیٰ کان احدھما لایستتر من بولہ و کان الآخر یمشی بالنمیمۃ، ثم دعا بجریدۃ فکسرھا کسرتین فوضع علی کل قبر منھما کسرۃ فقیل لہ:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! لم فعلت ھذا؟ قال:لعلہ ان یخفف عنھما مالم تیبسا
وفی الصحیح لمسلم:(1/141،ط: قدیمی)
عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما قال:مر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم علی قبرین فقال اما انھما لیعذبان و مایعذبان فی کبیر اما احدھما فکان یمشی بالنمیمۃ و اما الآخر فکان لایستتر من بولہ، قال فدعا بعسیب رطب فشقہ باثنین ثم غرس علی ھذا واحدا و علی ھذا واحداثم قال:لعلہ ان یخفف عنھما مالم ییبسا
وکذافی بذل المجھود:(1-2/71-72،ط: قدیمی)
وکذافی المرقاہ شرح المشکوہ:(2/58،ط: مکتبہ التجاریہ)
وکذافی شرح الطیبی:(2/43،ط: دارالکتب العلمیہ)
وکذافی عون المعبود:(1/26،ط: قدیمی)
وکذافی معالم السنن:(1/44،ط: مکتبہ المعارف)
وکذافی عمدہ القاری:(3-4/117،ط: داراحیاء التراث العربی)
وکذافی عمدہ القاری:(3-4/121،ط: داراحیاء التراث العربی)
وکذافی فتح الباری:(1/425،ط: قدیمی)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/09/1442/2021/04/27
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:148