الجواب حامداً ومصلیاً
کعبہ کی بے ادبی و بے حرمتی سخت گناہ ہے اور بے ادبی و بے حرمتی کا تعلق عرف سے ہوتا ہے،تو جس عرف میں کعبہ کی طرف ٹانگیں پھیلانا بے حرمتی سمجھا جاتا ہے وہاں کعبہ کی طرف ٹانگیں کرنا گناہ اور مکروہ تحریمی ہو گا اور جہاں بے حرمتی نہیں سمجھا جاتا وہاں گناہ بھی نہیں ہو گا۔اور تھوکنے سے متعلق یہ حکم ہے کہ نماز اور دعا کی حالت میں مکروہ تحریمی ہے اس کے علاوہ خلاف ادب ہے۔
لما فی الصحیح لمسلم:(1/249،رحمانیہ)
عن ابی سعید الخدری ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم رای نخامۃ فی قبلۃ المسجد فحکھا بحصاۃ ثم نھی ان یبزق الرجل عن یمینہ او امامہ ولکن یبزق عن یسارہ او تحت قدمہ الیسری
وفی الفقہ الاسلامی :(2/959،967،رشیدیہ)
یکرہ فی الصلاۃ ما یاتی:………….16-البصاق او التنخم فی غیر المسجد امامہ او عن یمینہ،لحدیث الشیخین واحمد:[اذاکان احدکم فی الصلاۃ،فانمایناجی ربہ،فلایبزقن بین یدیہ،ولا عن یمینہ].زادالبخاری:[فان عن یمینہ ملکا،ولکن عن یسارہ او تحت قدمہ].ویکرہ البصاق ایضا وھو فی غیر الصلاۃ عن یمینہ وامامہ اذا کان متوجھا الی القبلۃ،اکراما لھا
و فی الھندیہ:(5/322،رشیدیہ)
وضع المصحف تحت راسہ فی السفر للحفظ لا باس بہ وبغیر الحفظ یکرہ،کذا فی خزانۃ الفتاوی
وفی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/276،رشیدیہ)
قولہ مد رجلیہ)او رجل واحدۃومثل البالغ الصبی فی الحکم المذکور(قولہ ای عمدا)ای ومن غیر عذراما بالعذر او السھو فلا
وکذافی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2/215،216،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/516،رشیدیہ)
وکذا فیہ:(1/608،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ کنز الدقائق:(34،قدیمی)
وکذا فی النھر الفائق:(1/287،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(2/59،رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/179،رحمانیہ)
وکذا فی فیض الباری:(2/48،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:49