سوال

قرآن پاک کی آیت مبارکہ” انما حرم علیکم المیتۃو الدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ” اس میں” انما “کا لفظ حد بندی کے لیے آتا ہے، اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی چیزیں حرام ہیں، حالانکہ ان کے علاوہ اور چیزیں بھی حرام ہیں، صرف ان کو کیوں خاص کیا؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا ذکر کرنا مقصود نہیں ہے(حصر حقیقی نہیں ہے)بلکہ جن چیزوں میں کفار و مشرکین نے خود سے حکم لگایا ہوا تھا، ان کے مقابلے میں چند چیزوں کو ذکر کیا گیا ہے(حصر اضافی ہے)۔

لمافی التفسیر المنیر:(4/435،امیر حمزہ)
انما حرم اربعۃ اشیاء ھی :المیتۃ و الدم المفسوح و لحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ، لما فیہ من الضرر المادی والمعنوی الذی یمس العقیدۃ وعبادۃ اللہ ۔۔۔۔لکن الحصر المستفاد من ھذھ الآیۃ وامثالھا امرنسبی لامطلق وھذھ الآیۃ مخصوصۃ بالآیات والاخبار الدالۃ علی تحریم ما حرم من غیر الاربعۃ۔
وفی تفسیر المظھری:(1/170،رشیدیہ)
فان قیل کلمۃ انما للحصر وکم من حرام لم یذکر ؟ قلناالمختار عند الحنفیۃ ماقال نحاۃ الکوفۃ ان کلمۃ انما لیست للقصر بل ھی مرکبۃ من ان للتحقیق وما الکافۃ وعلی تقدیر التسلیم فالقصر اضافی بالنسبۃ الی ماحرمہ الکفارۃ من بحیرۃ وسائبۃ ووصلیۃ و حام ونحوھا واللہ اعلم ۔
وکذافی تفسیر القرطبی:(2/216،دار احیاءالتراث العربی)
وکذافی التفسیر الکبیر:(2/192،علوم اسلامیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14-2-1443،1443-7-12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:154

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔