الجواب حامداًومصلیاً
جس شخص کے پاس یہ پانچ چیزیں یا ان میں سے بعض ہوں؛سونا، چاندی،نقدی، مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان اور ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے تو اس پر قربانی واجب ہو جاتی ہے۔
لما فی المحیط البرہانی:(8/455،ادارة القرآن)
وشرط وجوبہا الیسار عند أصحابنا،والموسر فی ظاہر الروایة:من لہ مأتا درہم أو عشرون دیناراً أو شیئ یبلغ ذالک سوا مسکنہ ومتاعہ ومرکوبہ وخادمہ فی حاجتہ التی لا یستغنی عنہا فأما ما عدا ذالک من سائمۃ أو رقیق أو خیل أو متاع للتجارۃ أو لغیرہا فإنہ یعتد بہ فی یسارہ
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/198،الطارق)
والیسار الذی یتعلق بہ وجوب صدقۃ الفطر والمعتبر وجود ہذہ الشرائط آخر الوقت وإن لم یکن فی اولہ۔۔۔۔۔۔۔ والیسار بأن یملک مأتی درہم أو عرض یساویہا غیر مسکنہ وثیاب اللبس ومتاع یحتاجہ إلی أن یذبح الأضحیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔وصاحب الثیاب الأربعۃ لو ساوی الرابع نصاباً غنیّ وثلاثۃ فلا
وکذا فی البزازیة علی ہامش الہندیة:(6/286،رشیدیة)
وکذا فی الخانیة علی ہامش الہندیة:(3/344،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(5/292،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی السراجیة:(157،383،زمزم)
وکذا فی البنایة:(11/12،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(8/318،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الانہر:(1/167،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/167،المنار)
واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/08/1443/2022/03/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:100