سوال

قربانی کےبڑے جانور میں سات شرکاءسے کم آدمی مل کر قربانی کرسکتےہیں یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں !سات سے کم افراد شریک ہو سکتے ہیں بشرطیکہ کسی کا حصہ ایک حصے سے کم نہ ہو۔

لما فی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (9 /524 ،رشیدیہ )
أو سبع بدنۃ) ھی الابل والبقرسمیت بہ لضخامتھا ولو لأحدھم أقل من سبع لم یجز عن أحد وتجزی عما دون سبعۃبالاولی
وفی العنایة: (11 /16 ،رشیدیہ )
وإما اذا کانوا أقل من سبعۃ ونصیب أحدھم الثلث والآخر الربع جاز بعد ان لایکون نصیب احدھم أقل من السبع
وکذافی البحرالرائق: (8 /319 ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (4 / 206 ،رشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ: (4 /444 ،رحمانیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی : (5 /202 ،طارق )
وکذا فی الفتاوی الھندیة: (5 /306 ،رشیدیہ )
وکذا فی الصحیح المسلم: (1 / 491 ،رحمانیہ )
وکذا فی موطا الامام محمد مع حاشیہ: ( 258 ،رحمانیہ )
وکذا فی خلاصة الفتاوی : (4 / 315 ،رشیدیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/3/12/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:129

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔