سوال

قضاءحاجت کے بعد ہاتھ دھوناشرعااس کی کیاحیثیت ہے،سنت ہے یاواجب؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

سنت ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد: ( 1/ 18 ،رحمانیة )
عن ابی ھریرۃقال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذااتی الخلاءاتیتہ بماء فی توراورکوۃ فاستنجی قال ابوداؤدفی حدیث وکیع ثم مسح یدہ علی الارض ثم اتیتہ بماءاٰخرفتوضا
وفی فتاوی النوازل: (41 ،حقانیة )
وغسل یدہ قبل الاستنجاءوبعدہ سنۃ
وکذافی سنن النسائی: (1 /29 ،رحمانیة )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (1 /354 ،رشیدیة )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 1/ 109 ،رشیدیة )
وکذافی الشامیة: ( 1/ 345 ،سعید )
وکذافی خلاصة الفتاوی: (1 /24 ،رشیدیة )
وکذا فی الھندیة: (1 /49 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
/2023/3/24/3/9/1444
جلد نمبر :29 فتوی نمبر:165

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔