الجواب حامداً ومصلیاً
قعدہ اولیٰ میں جتنادرودپڑھنےسےسجدہ سہوواجب ہوتاہے:اس میں مختلف اقوال ہیں۔راجح قول کےمطابق ایک رکن کےبقدرتاخیرسےسجدہ سہولازم ہوتاہے۔یہ مقدار:’’کماصلیت علٰی‘‘میں’علٰی‘کے’’ل‘‘تک بنتی ہے۔احوط قول کےمطابق ’’وعلٰی آل محمد‘‘تک پڑھنےسےسجدہ سہوواجب ہوتاہے۔غرض پہلاقول زیادہ وسعت والااوردوسراقول زیادہ احتیاط والاہے،دونوں پرعمل کرنےکی گنجائش ہے۔چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سجدہ سہوواجب نہیں ہوگا۔
لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/212،الطارق)
واجبات الصلاۃثمانیۃعشر،…الثانی عشر:القیام فوراًإلی الرکعۃالثالثۃبعدانتھاءالتشھد،…فلومکث بعدانتھاء التشھدمقدارﺃداءرکن ،وقدروہ بثلاث تسبیحات أوبمقدارمایقول:’’اللھم صل علٰی محمدوعلٰی آل محمد‘‘یلزمہ سجود السھو،لأنہ أخررکن القیام الی الرکعۃالثالثۃبمقدارمایؤدی فیہ رکن
وفی المحیط البرھانی:(2/314،ادرةالقرآن)
وفی’’شرح الکافی‘‘للصدرالشھید؛وکان الشیخ الإمام الأجل ظھیرالدین المرغینانی یقول:لایجب سجودالسھوبقولہ: ’’اللھم صل علٰی محمد‘‘ونحوہ، وإنماالمعتبرمقدارمایؤدی فیہ رکن
وکذافی التاتارخانیة:(2/401،فاروقیہ)
وکذافی مجمع الأنھر:(1/221،المنار)
وکذافی الشامیة:(2/81،سعید)
وکذافی البحرالرائق مع منحة الخالق:(1/568،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/7/1443/2022/2/11
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:147