الجواب حامداً ومصلیاً
اگر میقات سے گزارنے والاباربارمیقات سے گزرتا ہے اوراس کو حرج لازم آتا ہے تو اس کےلیےرخصت ہے کہ بغیر احرام باندھےحدودحرم میں داخل ہوجائے،صورت مسؤلہ میں ذکر کردہ صورت میں حرج لازم نہیں آرہا،لہذاحرم کے تقدس کی وجہ سے اگر حدود حرم میں سے بغیر احرام کے گزرا ہے توپھراس پر دم لازم ہےاوراگروہ واپس آکر میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کرلے تودم ساقط ہوجائے گااوراگر وہ میقات سے نہیں گزرا تواس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا۔
لما فی کتاب الفقہ:(1/542، حقانیة)
ولا یجوذ لہ أن یجاوذہ بدون إحرام،فان جاوزہ ولم یحرم،وجب علیہ الرجوع الیہ لیحرم منہ،ان کان الطریق مأموناًوکان الوقت متسعاً بحیث لایفوتہ الحج لورجع فان لم یرجع لزمہ ھدی لانہ جاوزالمیقات بدون احرام
وفی غنیة الناسک:(60/ادارةالقرآن)
آفاقی مسلم مکلف أراد دخول مکۃ أوالحرم ولولتجارۃ اوسیاحۃوجاوزآخرمواقیتہ غیرمحرم ثم احرم اولم یحرم أثم ولزمہ دم وعلیہ العودالی میقاتہ الذی جاوزہ
وکذا فی ارشادالساری: (89 /فاروقیہ
وکذافی الشامیہ: (3 /551 ،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (3 /88 ،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/371،رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ: (2 /431 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/2129،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/253،المیزان)
واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:10