الجواب حامداً ومصلیاً
اگر ایسے پاجامہ کے ساتھ لمبی قمیض یا جبہ وغیرہ پہننے کا بھی معمول ہے تو پھر اسے پہننے میں کوئی حرج نہیں لیکن شرٹ یا شارٹ قمیض کے ساتھ ایسا چست پائجامہ پہننا جس میں اعضاء کی بناوٹ واضح ہوتی ہو، فساق کے لباس سے مشابہت ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے،اور اسے پہن کر نماز پڑھنامکروہ ہے۔
لما فی مجمع الزوائد:(5/164،بیروت)
قال فتسرولو انتم وائتزروا قالو یا رسول اللہ فان المشرکین یحتفون ولا ینتعلون قال فاحتفواانتم وانتعلوا وخالفوا اولیاءالشیطان بکل ماستطعتم
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/740،رشیدیہ)
وتنعقد الصلاۃ مع الکراھۃ التحریمیۃ عند الحنفیۃ بما لا یحل لبسہ کثوب حریر للرجل ویاثم بلا عذر کالصلاۃ فی
الارض المغصوبۃ
وفی تکملہ فتح الملہم: (4/88،دارالعلوم)
فکل لباس ینکشف معہ جزء من عورۃ الرجل والمراۃ لا تقرہ الشریعۃ الاسلامیۃ مہما کان جمیلا او موافقا لدور الازیاءوکذالک اللباس الرقیق اوالاصق بالجسم الذی یحکی للناظر شکل حصۃ من الجسم الذی یجب سترہ، فہو فی حکم ما سبق فی الحرمۃ وعدم الجواز
وکذافی الشامیہ:(1/404،سعید)
وکذافی مرقاۃ المفاتیح:(8/155،التجاریہ)
وکذافی بذل المجہود:(16/196،قدیمی)
وکذا فی السنن ابی داؤد:(2/203،رحمانیہ)
وکذا فی المشکوۃ:(2 /388،رحمانیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقہیہ:( 6/137،علوم اسلامیہ)
وکذافی مجمع الزوائد: (5/164،بیروت،)
وکذا فی الفقہ الاسلامیہ:(2 /976،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(1/103،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق غفراللہ ما اجرم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/7/1442/2021/10/3
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:37