سوال

مرد بیرون ملک تھا۔ اس نے اپنی بیوی کےلیے پرچے پر طلاق لکھ کر رکھ لی۔ پرچے پر لکھا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں ۔ پھر وہ شخص تین ماہ بعد گھر آیا اور بیوی کے ہاتھ میں وہ پرچہ تھما دیا ۔اب بیوی کےلیے عدت کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جس وقت سے مرد نے یہ تحریر لکھی اسی وقت سے طلاق واقع ہوگئی،لہذا عدت (3 حیض) بھی اسی وقت سے شمار ہوگی۔

لما فی الشامیة:(4/442،رشیدیہ)
ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وفی فتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیة:(1/471،رشیدیہ)
ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فلما كتب هذا وقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وکذافی المحیط البرھانی:(4/484،بیروت)
وکذافی الھندیة:(1/368،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(4/528،فاروقیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/173،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(2/91،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:156

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔