الجواب حامداً ومصلیاً
مرغی اور بطخ کی بیٹ نجس ہے(2)اگر کپڑے یا بدن وغیرہ کو لگ جائےتو ایک درھم(پانچ روپے والے بڑے سکے کے) برابریا اس سے کم ہے تودھونا ضروری نہیں،اگر زیادہ ہے تو پھر دھونا ضروری ہے،بغیر دھوئے نماز نہیں ہو گی۔
لما فی البدائع الصنائع: (1 /197 ،رشیدیة )
واماالاوراث فکلھا نجسۃ عندہ عامۃ العلماء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ومنھا:خرء بعض الطیور من الدجاج والبط
وفی الھندیة: (1 /46 ،رشیدیة )
وخرء الدجاج والبط والاوز نجس نجاسۃ غلیظۃ
وکذافی التاتارخانیة: (1 /442 ،فاروقیة ) وکذافی تنویرالابصار وشرحہ: (1 /577 ،رشیدیة )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /73 ،امدایة ) وکذافی النھرالفائق: ( 1/ 147 ،قدیمی )
وکذافی البحرالرائق: (1 /395 ،رشیدیة ) وکذافی کنزالدقائق: (1 /16 ،حقانیة )
واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:99