سوال

مریحہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

مریحہ نام رکھنا جائز نہیں ہے،کیوں کہ اس کامعنی تکبرکرنے والی اوراترانے والی ہے۔قرآن پاک میں ہے،”وَلَا تَمشِ فِی الَارضِ مَرَحَا”،ترجمہ( زمین میں اکڑ کر نہ چلو) (سورت لقمان:17)

لما فی المعجم الوسیط:(861،دارالدعوة)
مرح الرجل اشتد فرحہ و نشاطہ و تبختر واختال
وفی لسان العرب:(13 /67،دارالحیاء)
      مرح: المرح: شدۃ الفرح و النشاط حتی یجاوز قدرہ،والاسم بکسر میم، وقیل المرح التبختر الاختیال وفی التنزیل:” وَلاَ تَمشِ فیِ الاَرضِ مَرَحَاً “ای متبخترا مختالا وقیل المرح الاشر والبطر
وکذا فی المنجد:(754،خزینة علم ادب)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2 /334،رحمانیة)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(8 /526،التجاریة)
 وکذافی مشکوة المصابیح:(2 / 422،رحمانیة )
وکذا فی الشامیة:(6 /417،سعید)
 وکذافی الھندیة:(5 /362،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(18 /228،فاروقیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة :(11/331،علوم الاسلامیة)
واللہ اعلم بالصواب

حررہ:محمداعظم عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2/5/1445/27/11/2023

جلد نمبر :31 فتوی نمبر :12

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔