سوال

مسافر آدمی شہر میں جمعہ کے دن ظہر کی نماز باجماعت اداکرسکتا ہے؟یا نہیں

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مسافر آدمی کا جمعہ کے دن شہر میں نماز ظہر باجماعت ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

لما فی تنویر الابصار والدر: (2/36،دارالمعرفة)
وکرہ) تحریما(لمعذور ومسجون)ومسافر (اداظہر بجماعۃ فی مصر) قبل الجمعۃ وبعدھا.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1334،رشیدیہ)
” قال الحنفیۃ یکرہ تحریما ان یصلی المعذورون من مسافر ومسجون ومریض وغیرھم بجماعۃ یوم الجمعۃ. “
وکذافی المحیط البرھانی:(2/473،داراحیا تراث) وکذا فی خلاصة الفتاوی: (1/211،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/590،فاروقیہ) وکذا فی الدرالمنتقے:(1/25،المنار)
وکذا فی کتاب البسوط لشمس الدین السرخسی:(2/35، دارالمعرفة) وکذافی بدائع الصنائع:(1/605،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الاصل المعروف بالمبسوط للامام محمد:(1/335،عالم الکتب)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفریہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/3/2021
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:100

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔