سوال

مسبوق جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پائی ہے، وہ اپنی بقیہ نماز کیسے پوری کرے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جو شخص مغرب کی تیسری رکعت میں شریک ہوا وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو جائے اور پہلی رکعت میں ثناء، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ اور سورت پڑھے اور رکعت پوری کر کے قعدہ میں تشہد پڑھ کر کھڑا ہو جائے اور دوسری رکعت فاتحہ اور سورت کے ساتھ پڑھے، پھر قعدہ میں تشہد، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے۔
اورجو شخص ظہر، عصر اور عشاء کی آخری رکعت میں شریک ہوا وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو جائے اور پہلی رکعت میں ثناء، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ اور سورت پڑھے اور رکوع و سجدے کے بعد التحیات پڑھ کر کھڑا ہو جائے اور دوسری رکعت میں فاتحہ اور سورت پڑھے، اور تیسری رکعت میں صرف فاتحہ پڑھے اور قعدہ اخیرہ میں تشہد، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے۔

لما فی خلاصة الفتاوی: ( 1/165، رشیدیہ )
و المسبوق فیما یقضی أول صلوتہ فی حق القراءۃ و آخر صلوتہ فی حق التشھد حتی لو أدرک مع الامام رکعۃ من المغرب ثم قام الی قضائہ بعد تسلیم الامام فانہ یقضی رکعتین و یقرأ فی کل رکعۃ بالفاتحۃ و السورۃ و لو ترک القراءۃ فی احدیھما تفسد صلوتہ و علیہ أن یقضی رکعۃ و یتشھد ثم رکعۃ أخری و یتشھد و یسلم لانہ یقضی اخر صلوتہ فی حق التشھد و لو أدرک رکعۃ مع الامام فی صلوۃ الظھر و العصر و العشاء و قام الی القضاء فعلیہ أن یقضی رکعۃ و یقرأ فیھا بالفاتحۃ و سورۃ و یتشھد لانہ یقضی آخر الصلوۃ فی حق التشھد و یقضی رکعۃ أخری و یقرأ فیھا بالفاتحۃ و سورۃ و لا یتشھد و فی الثانیۃ بالخیار و القراءۃ أفضل
وفی الدر المختار: ( 2/418، رشیدیہ )
ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد؛ فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما، وبرابعة الرباعي بفاتحة فقط، ولا يقعد قبلها
وکذافی کتاب الآثار: ( 1/192، دار السلام )
وکذا فی إعلاء السنن: ( 4/394، إدارةالقرآن )
وکذافی غنیة المستملی: ( 469، رشیدیہ )
وکذا فی الأشباہ و النظائر: ( 165، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی شرح الحموی علی الأشباہ و النظائر: ( 1/422، إدارة القرآن )
وکذا فی فتح القدیر: ( 1/401، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ( 409، رشیدیہ )
و کذا فی البزازیة مع الفتاوی العالمگیریة: ( 4/60، رشیدیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :107

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔