الجواب حامداً ومصلیاً
اگر محراب مسجد کی زمین مین ہو (جیسا کہ اکثر علاقوں میں ہوتا ہے)تومحراب میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا اور اگر محراب مسجد کی زمین میں نہ ہو(جیسا کہ بعض علاقوں میں ہوتا ہے کہ گلی کی زمین میں محراب بنایا جاتا ہے)تو محراب میں جانے سے اعتکاف ٹوٹ جائیگا۔
لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/212،رشیدیہ)
” فلا یخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ولا نھارا الا بعذر وان خرج من غیر عذر ساعۃ فسد اعتکافہ فی قول ابی حنیفۃ . “
وفی الفتاوی السراجیہ:(172،زمزم)
” لا یخرج المعتکف الا لبول اؤغائط…فان خرج بغیر عذر من اکل اؤشرب اؤ عیادۃ فسد اعتکافہ. “
وکذافی المحیط البرھانی:(3/379،داراحیاء تراث)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/444،فاروقیہ)
وکذافی رد المحتار علی الدر المختار:(3/500،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاویٰ(1/267،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/378،المنار)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(3/117،دارالمعرفة)
واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1443/2022/3/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:41