الجواب باسم ملھم الصواب
صورتِ مسؤلہ میں مطلقہ اپنی عدت شوہر کے گھر پوری کرےگی، جہاں طلاق سے پہلے رہاکرتی تھی۔ لیکن اگر کسی وجہ سے وہاں رہنا ممکن نہ ہو تو پھر وہاں عدت گزارے جہاں آسانی سے رہائش کا بندوبست ہوسکے۔
لما فی الھدایہ: (2/407، ط: رشیدیہ)
و علی المعتدۃ ان تعتد فی المنزل الذی یضاف الیھا بالسکنی حال وقوع الفرقۃ و الموت
و فی بدائع الصنائع: (3/325، ط: رشیدیہ)
و منزلھا الذی تؤمر بالسکون فیہ للاعتداد و ھو الموضع الذی کانت تسکنہ قبل مفارقۃ زوجھا و قبل موتہ
و کذا فی شرح الوقایہ (2/153، ط: امدادیہ)
و کذا فی الفتاوی الولوالجیہ (2/85 الی 86، ط: مکتبہ الحرمین الشریفین)
و کذا فی کنز الدقائق (148، ط: حقانیہ)
و کذا فی البحرالرائق (4/259، ط: رشیدیہ)
و کذا فی ملتقی الابحر (2/154، ط: المنار)
و کذا فی مجمع الانھر (2/155، ط: المنار)
و کذا فی التنویر مع الدر (3/536، ط: ایج ایم سعید)
و کذا فی المختصر للقدوری (188، ط: مکتبہ الخلیل)
و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
06/07/1442/ 2021/02/19
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:95