سوال

! معتکف بھول کر یا لاعلمی کی وجہ سے مسجد کی حدود سے باہر نکل گیا، تو اعتکاف کا کیا حکم ہے؟ اور کتنی دیر بلاوجہ مسجد کی حدود سے باہر ٹھہرنے کی گنجائش ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اعتکاف کرنے والا شخص بھول کر یا لاعلمی کی وجہ سے مسجد کی حدود سے باہر تھوڑی دیر کے لیے بھی نکل گیا تو اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

لمافی الھندیة:(1/212،رشیدیہ)
فلا یخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ونھاراالا بعذر وان خرج من غیر عذر ساعۃ فسد اعتکافہ فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی کذا فی المحیط سواء کان الخروج عامدا او ناسیا۔
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/222،رشیدیہ)
“اذا خرج بغیر عذر ناسیا فسد اعتکافہ وان کان ساعۃ فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی ۔ “
وکذافی البحر الرائق:(2/529،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/284،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/444،فاروقیہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(2/447،ادارةالقران)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/379،ادارةالقران)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(269،بشری)
وکذافی الھدایة:(1/248،میزان)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15-3-2022،1443-8-11
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:2

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔