الجواب حامداً ومصلیاً
کمپنی کی طرف سے یہ رقم بطور تبرع اور انعام کے دی جاتی ہے ،لہذا اس کا استعمال جائز ہے۔
لما فی الموسوعة الفقھیة:(10/65،علوم اسلامیہ)
التبرع بذل المکلف مالا او منفعۃ لغیرہ فی الحال او المآل بلا عوض بقصد البر و المعروف غالباً
وفیہ ایضاً:(10/66،علوم اسلامیہ)
و اما الاجماع فقد اتفقت الامۃ علی مشروعیۃ التبرع و لم ینکر ذٰلک احد
وفی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/155،معارف القرآن)
و ان مثل ھذہ الجوائز التی تمنح علی اساس عمل عملہ احد لا تخرج عن کونھا تبرعا و ھبۃ لانھا لیس لھا مقابل ، و ان العمل الذی عملہ الموھوب لھ لم یکن علی اساس الاجارۃ او الجعالۃ حتی یقال ان الجائزہ اجرۃ لعملہ ، و انما کان علی اساس الھبۃ للتشجیع
وکذافی البحر الرائق:(7/483،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/387،الطارق)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(15/76،77،علوم اسلامیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(8/567،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(4/3261،رشیدیہ)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/155،معارف القرآن)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفر لہ و الوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 74