سوال

موجودہ دور میں کوئی کوئی آدمی خاندان میں اللہ پاک کے سب احکام پر عمل کی کوشش کرتا ہے ورنہ سب خاندان والےاللہ کے احکام پر عمل کرنے والے کو انتہا پسند ،دقیانوس ،پاگل وغیرہ کے القابات سے نوازتے ہیں۔ آپ سے سوال ہے کہ اللہ پاک کے احکام پر عمل کرنے کے لیے ایسے قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلق ہو جائےتو کیا درست ہے ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

قرآن وحدیث میں صلہ رحمی کی بہت تاکید ہے ،لہذا قطع تعلق درست نہیں ۔البتہ ایسے رشتہ داروں کو پیار محبت سے سمجھایا جائے ،اگر باز نہ آئیں تو میل جول کم کر دیا جائے ۔اور احکام اسلام پر اس طرح عمل کیا جائے کہ آپ کے عمل کو دیکھ کر دوسرے لوگوں میں نیکی کا شوق اور رغبت پید اہو ۔

لما فی جامع الترمذی :(2/456،رحمانیۃ)
“عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: ”الراحمون يرحمهم الرحمن،ارحموا من في الأرض يرحمكم من في السماء، الرحم شجنة من الرحمن،فمن وصلها وصله الله ومن قطعها قطعه الله“ “هذا حديث حسن صحيح.”
وفی سنن ابی داؤد :(2/331،رحمانیۃ)
“عن ابی ھریرۃ قال قال رسولﷺ لا یحل لمسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلث فمن ھجر فوق ثلث فمات دخل النار .”
وفی ھامش علی سنن ابی داؤد :(2/331،رحمانیۃ)
“ومن خاف من مکالمہ احد واصلہ ما یفسد علیہ واللہ او یدخل مضرۃ فی دنیاہ یجوز لہ مجانبتہ والبعدعنہ .”
وکذافی الجامع البیان فی تفسیرالقرآن للطبری:(14/109،دارالمعرفۃ)
وکذافی جامع الترمذی :(2/455،رحمانیۃ)
وکذافی روح المعانی :(14/254،دار احیاء)
وکذافی تفسیر المظھری :(4/210،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/8/1440،2019/4/16
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :197

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔