سوال

موکل نے وکیل کو کچھ رقم دی کہ کسی مستحق پر خرچ کر نا کسی خاص شخص کی تعیین نہیں کی وکیل خود بھی مستحق ہے تو کیااپنے اوپر خرچ کر سکتا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

موکل جب وکیل کو خرچ کرنے کا مکمل اختیار دےدے مثلا یوں کہے”جہاں چاہو خرچ کرو“یاکہے”جسے چاہو دےدو“ وغیرہ ،اب موکل اور وکیل کے درمیان تعلقات کو دیکھا جائے گااگر ان میں بے تکلفی ہے،موکل وکیل کی مالی حالت جانتا ہے، اس کو مستحق بھی سمجھتا ہے اور پہلے بھی اس پر خرچ کرتا رہتا ہےتو اس صورت میں وکیل اس رقم کو اپنے اوپر خرچ کر سکتا ہے۔
اگر ان میں ایسی بے تکلفی نہیں ہے اور موکل کے ذہن میں بھی یہی ہے کہ وکیل اس رقم کو آگئے خرچ کرے گا تو اس صورت میں وکیل اپنے اوپر خرچ نہ کرے،البتہ بہتر یہ ہے کہ وکیل بہر صورت اپنے استعمال میں لانے کے لیے موکل سے صراحتاً اجازت لےلے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1976،رشیدیہ)
ولا یجوز لہ ان یاخذ الزکاۃ لنفسہ الا اذا قال لہ الموکل ضعھا حیث شئت
وفی البحر الرائق :(2/369،رشیدیہ)
وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا الا اذا قال لھاضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه
وفی الدر المختار:(3/224،رشیدیہ)
وللوکیل ان یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ الا اذا قال ربھا ضعھا حیث شئت
وکذافی التاتارخانیہ:(3/227،فاروقیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/394،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(237،بشری)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/288،قدیمی)
وکذا فی حاشیة تبیین الحقائق:(1/305،258،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/1/2021/1442/6/3
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:198

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔