الجواب باسم ملھم الصواب
یہ صورت درست نہیں ہے،اس لیے کہ پٹرول آپ کے قبضے میں نہیں آیا اور کسی چیز کا قبضہ کرنے سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے،اس کی آسان صورت یہ ہے کہ آپ فروخت کرنے سے پہلے یا تو بذات خود آپ اس پر قبضہ کر لیں،یا اپنے وکیل کے ذریعے اس پر قبضہ کرائیں،یا آپ اس صاحب کو جو کہ خرید ار ہے قبضہ کرنے کا وکیل بنائیں وہ آپ کی طرف سےقبضہ کرے اور پھرآپ کو کسی ذریعے سے اطلاع کرے اس کے بعد آپ اس کو فروخت کریں۔
لما فی جامع الترمذی : (1/364،رحمانیہ)
عن حکیم بن حزام قال سالت رسولﷺ فقلت یاتینی الرجل، فیسئلنی من البیع ما لیس عندی ابتاع لہ من السوق ،ثم ابیعہ قال لا تبع ما لیس عندک
وفی الصحیح لمسلم:(2/5،قدیمی)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قال رسولﷺ من ابتاع طعاما فلا یبعہ حتی یقبضہ،قال ابن عباس واحسب کل شیئ بمنزلۃ الطعام
وفی تنویر الابصار مع شرحہ: (5/147،سعید)
“(فلا یصح) اتفاقا ککتابۃ واجارۃو (بیع منقول) قبل قبضہ ولو من بائعہ۔”
وكذا في سنن ابي داود: (2/138،رحمانیہ) وکذا فی فتح القدیر:(6/471،رشیدیہ)
وکذا فی المستدرک:(2/171،قدیمی) وکذا فی البحر الرائق:(6/194،رشیدیہ)
وکذا فی فقہ البیوع:(1/333،معارف القرآن) وکذا فی مجمع الانھر:(3/113،المنار)
واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440،2019/2/18
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :7