سوال

میت کو دفن کرنے کے بعد میت کے سر کی طرف سورۃ بقرہ کا پہلا رکوع اور پاؤں کی طرف آخری رکوع پڑھا جاتاہے،کیا یہ حدیث سے ثابت ہے یا نہیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی یہ حدیث سے ثابت ہے۔

لما فی المعجم الکبیر للطبرانی:(6/255،بیروت)
حدثنا أبو شعیب الحرانی ،ثنایحیی بن عبد الللہ البابلتی، ثنا أیوب بن نھیک، قال:سمعت عطاء بن أبی رباح، یقول: سمعت ابن عمر یقول: سمعت النبی صلى اللہ علیہ وسلم یقول: إذا مات أحدكم فلا تحبسوہ، وأسرعوا بہ إلى قبرہ، ولیقرأ عند رأسہ بفاتحۃالكتاب، وعند رجلیہ بخاتمۃ البقرۃ فی قبرہ
وفی اثار السنن:(338،امدادیہ)
عن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج عن ابیہ قال قال لی ابی اللجلاج ابو خالد رضی اللہ عنہ یابنی اذا انامت فالحدلی فاذاوضعتنی فی لحدی فقل بسم اللہ وعلی وملۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم سن التراب سنا ثم اقراعند راسی بفاتحۃ البقرۃ وخاتمتھا فانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ذلک رواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر واسنادہ صحیح
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/151،رحمانیہ)
وکذافی الشامیہ: (2 /232 ،سعید)
وکذا فی اعلاءالسنن:(8/342،ادارة القرآن)
وکذا فی مجمع الزوائد:(3/124،بیروت)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:9

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔