الجواب حامداً ومصلیاً
عورت اپنی عدت کے دوران عذر اور ضرورت کے تحت دن میں گھریلو اخراجات یا علاج معالجہ یا اپنی عزت یا مال کی حفاظت یا کرائے کی ادائیگی وغیرہ کے لئے گھر سے نکل سکتی ہے، جبکہ رات گھر میں گزارنا ضروری ہے ۔ مگر سوال میں مذکورہ وجوہات کوئی شرعی عذر نہیں ہیں، لہذا ان وجوہات کی بناء پر بیوہ کا گھر سے نکلنا جائز نہیں۔
لما فی الھندیة: ( 1/534، رشیدیہ )
“المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا و بعض اللیل و لا تبیت فی غیر منزلھا کذا فی الھدایۃ.”
وفی الھدایة: ( 3/297، البشری )
المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا و بعض اللیل و لا تبیت فی غیر… وأما المتوفی عنھا زوجھا فلأنہ لا نفقۃ لھا، فتحتاج الی الخروج نھارا لطلب المعاش، و قد یمتد الی أن یہجم اللیل.”
وکذافی فتح القدیر: ( 4/309، رشیدیہ )
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 5/228، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 4/7200، 7199، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 4/459، رشیدیہ )
وکذافی الخانیة مع الھندیة: ( 1/554، رشیدیہ )
وکذا فی الأشباہ و النظائر: ( 87، قدیمی کتب خانہ )
واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440، 2019/4/10
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:25