سوال

میری والدہ صاحبہ بوڑھی ہیں ،انہیں سردی بہت زیادہ لگتی ہے،رضائی سے باہر نکلتے ہی کپکپی شروع ہو جاتی ہے ،صبح اور رات کے وقت اگر گرم پانی سے بھی وضوکریں تو بائیں بازو اور گردن میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے جو بہت دیر تک رہتا ہے اور یہ درد انہیں پہلے بھی ہوتا ہے لیکن سردیوں میں بڑھ جاتا ہے،دھوپ کے وقت اگر گرم پانی سے وضو کریں تو تو درد زراکم ہوتا ہے ۔تو کیا صبح اور رات کے وقت وہ تیمم کرسکتی ہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی! صبح اور رات کو تیمم کر سکتی ہیں۔

لما فی المحیط البرھانی:(1/312،داراحیاءتراث)
ویجوز التیمم للمریض اذا خاف زیادۃ المرض باستعمال الماء
وفی الھندیہ:(1/28،رشیدیہ)
ولو کان یجد الماء الا انہ مریض یخاف ان استعمل الماء اشتد مرضہ او ﺃبطا برؤہ یتیمم لافرق بین ان یشتد بالتحرک کالمشتکی من العرق المدنی والمبطون او بالاستعمال کالجدری ونحوہ
وکذا فی القرآن المجید:(المائدہ:6)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(1/573،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/158،الطارق)
وکذا فی الھدایہ:(1/52،رشییدیہ)
وکذا فی کنزالدقائق وحاشیتہ:(9،حقانیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/245،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/378،فاروقیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/134،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:50

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔