الجواب باسم ملھم الصواب
اگر وہ بچا ہوا سامان دکاندار کا اپنا ہو تو چونکہ وہ اس کا مالک ہے وہ استعمال کر سکتا ہےاور اگر وہ سامان اہل خانہ کا ہوتو پھر ان کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتا۔
لمافی مسند الامام احمدبن حنبل:(4/437، دار احیاءالتراث)
˝ولا یحل لامرئ من مال اخیہ الا ماطابت بہ نفسہ۔”
وفی کنز العمال:(5/51، رحمانیہ)
˝انہ لا یحل مال امرئ مسلم الا بطیب نفسہ منہ۔”
وکذافی السنن الکبری:(6/160، دار الکتب العلمیہ)
وکذافی المشکوۃ المصابیح:(1/228، رحمانیہ)
وکذا فی کنز العمال:(5/50، رحمانیہ)
وکذا فی کنز العمال:(5/49، رحمانیہ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفر لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساھیوال
1/5/1440،2019/01/08
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:84