سوال

میرے بھائی کا قتل ہوا، اس کی دیت میں میرے والد کو دو لاکھ روپے اداکیے گئے۔ میرے والد نے وہ رقم مجھے دی کہ زمین خرید لو، میں اس رقم سے دس ایکڑ زمین خرید کر والد صاحب کی اجازت سے اپنے نام کروالی۔ بعد ازاں اس زمین کی بچت سے دولاکھ روپے دیت والی رقم کا ایک عدد پلاٹ خرید کر مدرسہ کو وقف کردیا، اس کے بعد موجودہ رقبہ (دس ایکڑ) میں سے مزید ایک ایکڑ مدرسہ کے لیے وقف کردیا۔ اب میرے پاس کل رقبہ نو ایکڑ موجود ہے۔ میری چار بہنیں ہیں، بھائی کوئی بھی نہیں اور میرا ایک بیٹا ہے، چاربیٹیاں ہیں، اب میں اپنی بہنوں کو اپنی زمیں میں سے حصہ دینے کا مجاز ہوں یا نہیں؟ نیز جو زمین مدرسہ کو وقف کی گئی ہے وہ حصہ میں شامل ہوگی یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں دیت کی رقم مقتول بھائی کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی، شرعی ورثاء یعنی اگرشادی شدہ تھا تو اس کی اولاد، بیوی،والدہ اور بہن بھائی وغیرہ کی تفصیل بتلا کر ان کا حصہ معلوم کیا جا سکتا ہے اور دس ایکڑ میں سے جو ایک ایکڑ زمین مدرسہ کو وقف کی ہے، اگر تمام ورثاء خوش دلی سے اس پر راضی ہوں تو ٹھیک، ورنہ وہ صرف اجازت دینے والوں کے حصہ سے وقف ہو گی۔

لما فی الشامیة :(10/528،رشیدیہ)
واعلم انہ یدخل فی الترکۃ الدیۃ الواجبۃ با لقتل الخطا او بالصلح عن العمد
وفی الھندیة: (6 /7 ،رشیدیہ)
ویستحق القصاص من یستحق میراثہ علی فرائض اللہ تعالی فید خل فیہ الزوج والزوجۃ وکذا الدیۃ
وکذافی الھدایة:(4/239،بشریٰ)
وکذافی البنایہ: (12 /153 ،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(6/121،امدادیہ)
وکذافی فتح القدیر: ( 10/ 264 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/6/15/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:185

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔