سوال

میں سال پورا ہونے سے پہلے ہی زکوۃ دینا شروع کردیتا ہوں غریبوں کو،زکوۃ کی نیت سے ،جب سال پورا ہوتاہے تو میری زکوۃ کی رقم تقریباً پوری ہوچکی ہوتی ہےاگر بچ بھی جائے تو میں سال کے آخر میں حساب کرکے ادا کردیتا ہوں تو اس طرح میری زکوۃ ادا ہوجا تی ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔

لما فی الھندیة: (1 /176 ،رشیدیہ)
ویجوز تعجیل الزکاۃ بعد ملک النصاب ولایجوز قبلہ کذافی الخلاصۃ
وفی الخانیہ: (1 /264 ،رشیدیہ)
یجوز تعجیل الزکاۃ بعد ملک النصاب
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(23/294،علم اسلامیة)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/241، رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/191،بیروت)
وکذا فی المبسوط:(2/176،بیروت)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1816،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /184 ،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:11

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔