الجواب حامداً ومصلیاً
اس طرح معاملہ کرنا درست نہیں ،انہیں فی الفور اس دوکان کا کرایہ متعین کر لینا چاہیے،ورنہ یہ دونوں گنہگار ہوں گے۔
لما فی الشامیہ: (9 /9 ،رشیدیہ)
وشرطھا:کون الاجرۃ والمنفعۃ معلومتین لأن جھالتھما تفضی إلی المنازعۃ
وفی الفقہ الحنفی:(4/342،طارق)
یشترط فی الإجارۃ أن تکون الأجرۃ والمنفعۃ معلومتین لأن جھالتھما تفضی إلی المنازعۃ
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (15 /7 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(11/217،بیروت)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3822،رشیدیہ)
وکذافی المصنف لابن ابی شیبة:(4/371،دارالکتب)
وکذا فی الھدایة:(3/296،رحمانیة)
وکذا فی البحرالرائق: (7 /507 ،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:138