الجواب باسم ملھم الصواب
یہ طریقہ نا جائز ہے ۔کیونکہ بیچنے والا ،خریدار کی طرف سے قبضہ کا وکیل نہیں بن سکتا ،اس کے جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ دوسرے خریدار یعنی ناصر کو پہلے اپنا وکیل بنا لیں کہ وہ آپ کی طرف سے اس چیز پر قبضہ کرلے ،اورپھر آپ کو اطلاع کر ے اب آپ وہ چیز ناصر کو فروخت کریں اور اس وقت ناصر اس چیز پر اپنے لیے قبضہ کر لے ۔
لما فی فقہ البیوع للشیخ محمد تقی العثمانی مد ظلہ: (1/182،معارف القرآن )
واشترط معظم الفقھاء لصحۃ البیع تعدد العاقدین ۔فلا یجوز ان یکون الشخص الواحد عاقدا من الجانبین۔وھذا انما یتصور ان کان اصیلافی جانب ،ونائبا عن الآخر فی جانب آخر ،فیتم الایجاب بصفتہ اصیلا،والقبول بصفتہ نائبا
ولما فی البدائع الصنائع : (2/489،رشیدیہ)
ولان حقوق البیع اذا کانت مقتصرۃ علی العاقد ،وللبیع احکام متضادۃ من التسلیم والقبض والمطالبۃ،فلو تولی طرفی العقد لصار الشخص الواحد مطالبا ومطلوبا ومسلما ومتسلما ،وھذا ممتنع.
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(12/268،269،فاروقیہ) وکذا فی الصحیح لمسلم :(2/16،رحمانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:15/4،5،داراحیاء تراث) وکذافی مجلہ الاحکام العدلیہ:(59،قدیمی)
وکذافی فقہ البیوع :(2/1189،معارف القرآن ) وکذافی الھدایہ:(3/77،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/394،رشیدیہ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:24