الجواب حامداً ومصلیاً
نا بالغ بچے کے مال سے نہ تو نفلی صدقہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مہمانوں کا اکرام کیا جا سکتا ہے۔
لما فی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: ( 26/326 ،علوم اسلامیہ )
أن يكون المتصدق من أهل التبرع، أي: عاقلا بالغا رشيدا، ذا ولاية في التصرف.وعلى ذلك فلا تصح صدقة التطوع من الصغير.
وفی التنویر وشرحہ مع الشامیہ: (9 / 526،دارالمعرفہ )
قال ولیس للاب ان یفعلہ من مال طفلہ، ورجحہ ابن الشحنۃ۔۔۔فمال الصبی لا یحتمل صدقۃ التطوع، وعزاہ للمبسوط فلیحفظ
وکذافی درر الحکام شرح مجلۃالاحکام: (2 /452و676 ،المکتبۃ العربیۃ )
وکذا فی شرح المجلۃ : (3 /375 ، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ: (14 /502 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (5 /168،رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-07-1440، 2019-04-6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:165