الجواب حامداً ومصلیاً
اگر کسی مسلمان دین دار ماہر ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق واقعی کسی شخص کا ذہنی مریض ہونا ثابت ہوجائے یا اس کا ذہنی مریض ہونا پہلے سے لوگوں میں معروف ہو اور وہ شخص اسی ذہنی مرض کی بناء پر ہوش و حواس میں نہ رہتے ہوئے طلاق دے دے تو ایسے آدمی کی طلاق شرعا معتبر نہیں ہوتی۔
بس اصل مدار اسی پر ہے کہ طلاق دیتے وقت وہ ذہنی مریض تھا یا نہیں۔ اگر ذہنی مریض تھا اور گھر والے افراد اسے ذہنی مریض ہی سمجھ رہے تھے تو طلاق نہیں ہوئی، ورنہ تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں
لما فی التنویر:(4/437،رشیدیہ)
لا یقع طلاق المولی علی امرأۃ عبدہ و المجنون و الصبی و المعتوہ
وفی الشامیة:(4/437،رشیدیہ)
قوله والمجنون) قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة
وفی الموسوعة الفقھیة:(29/15،علوم اسلامیة)
ذهب الفقهاء إلى عدم صحة طلاق المجنون والمعتوه ….فإن حكم طلاق المبتلى به منوط بحاله عند الطلاق، فإن طلق وهو مجنون لم يقع، وإن طلق في إفاقته وقع لكمال أهليته
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(299،البشری)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/158،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(2/164،قدیمی)
وکذافی ملتقی الأبحر علی ھامش مجمع الأنھر:(2/8،المنار)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/9/1442/2021/5/2
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:152