الجواب حامداًومصلیاً
اگرنمازی چھوٹی مسجد یاچھوٹے مکان میں نماز پڑھ رہا ہو(جس کا رقبہ 3600مربع فٹ سے کم ہو)تو اس کے سامنے سےگزرنا ناجائز ہے جب تک اس کے آگے سترہ نہ ہواوربڑی مسجد یا بڑا مکان (جس کا رقبہ 3600 مربع فٹ سے زیادہ ہو )سے گزرنا جائز ہے کہ اگر نمازی اپنی نظر سجدہ کی جگہ پر رکھے تو گزرنے والا اسے نظر نہ آئے یہ ایک صف کے قریب فاصلہ ہوتا ہے۔لہٰذاسجدہ کی جگہ سے آگے ایک صف چھوڑ کر گزرا جاسکتا ہے۔
لما فی التنویر مع الدر:(2/479،رشیدیة)
ومرورما فی الصحراء أوفی مسجد کبیربموضع سجودہ )فی الأصح (أو )مرورہ( بین یدیہ) الی حائط القبلۃ( فی) بیت و(مسجد) صغیر فانہ کبقعۃ واحدۃ (مطلقا )
قال العلامةالشامی : انہ قدر ما یقع بصرہ علی المار لو صلی بخشوع أی رامیاً ببصرہ الی موضع سجودہ، قولہ( ومسجد صغیر ھو أقل من ستین ذراعاً وقیل
فی أربعین، وھو المختار
وفی الھندیة:(1/104،رشیدیة)
قال مشائخنا اذا صلی رامیاًبصرہ الی موضع سجوہ فلم یقع بصرہ علیہ لم یکرہ وھو الصحیح کذا فی الخلاصۃ ۔ ۔ ۔ ھذا حکم الصحراء فان کان فی المسجد ان کان بینھماحائل کانسان أواسطوانۃ لا یکرہ وان لم یکن بینھما حائل والمسجد صغیر کرہ فی أی مکان کان والمسجد الکبیر کالصحراء
وکذافی المبسوط:(1/192،بیروت) وکذا فی المحیط البرھانی:(2/215،البیروت)
وکذا فی بدائع الصنائع :(1/509،رشیدیة) وکذا فی البحرالرائق:(1/27،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(1 /416،رشیدیة) وکذافی غنیة المتملی:(367،رشیدیة)
وکذا فی مجع الانھر:(1/183،المنار) وکذا فی کتاب الفقھاء:(1/234،الحقانیة)
واللہ اعلم بالصواب
بندہ محمداعظم عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/8/1445 /20/2/2024
جلد نمبر :31 فتوی نمبر :189