الجواب حامداً ومصلیاً
اگر صرف زبان سے غلطی ہوئی ہےتو نماز ہوگئی اور اگر دل میں دو ہی کا ارادہ تھا تو نماز لوٹانی پڑے گی۔
لما فی فتح القدیر: (1/273 ،رشیدیہ )
فاذا ذکرہ بلسانہ کان عونا علی جمعہ ثم رایتہ فی التجنیس قال:والنیۃ بالقلب لانہ عملہ،والتکلم لا معتبربہ
وفی التاتارخانیہ: (2 /43 ،فاروقیہ )
وسئل ایضاً عمن یقول بلسنہ عند الشروع فی الصلاۃ قبل التکبیر”درآمدم بنماز“اویقول”اقتداءکردم بامام“ھل یصح ھذا وانہ اخبار عن الماضی؟قال:المعتبر قصد القلب،فان کان من قصدہ انہ یدخل فی صلاۃ نفسہ او شرع فی الصلاۃ متابعا للامام فیھا یکفیہ ذلک،ولایضرہ خلل اللفظ کما لا یضرہ عدم اللفظ
وکذافی شرح الحموی: (1 /157 ،ادارہ القرآن )
وکذافی التاتارخانیہ: (1 /40 ،فاروقیہ )
وکذافی الھندیہ: (1 /66 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 / 201 ،الطارق )
وکذافی النھر الفائق: (1 / 187 ، قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الھدایہ: (1 /158 ،بشریٰ )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /330 ،رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ: (2 /156 ،رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/ 1444/9/11/2022
جلد نمبر :28 فتوی نمبر:78