الجواب حامداً ومصلیاً
سجدہ میں قدموں کو ملانا اور ان میں فاصلہ رکھنا دونوں جائز ہیں ،مگر بہتر طریقہ یہ ہے کہ مرد دونوں قدموں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھے جو تقریباً ہاتھ کی کم از کم چارانگلیوں کی بقدر ہواور عورت دونوں قدم ملا کر رکھے۔
لما فی المستدرک علی الصحیحین:(1/358،قدیمی)
قالت عائشۃ زوج النبی صلی اللہ علیہ و سلم فقدت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و کان معی علی فراشی فوجدتہ ساجدا راصاً عقبیہ مستقبلا باطراف اصابعہ القبلۃ
وفی رد المحتار:(2/240،رشیدیة)
قولہ :(و یسن ان یلصق کعبیہ )قال السید ابو السعود :و کذا فی السجود ایضاًـ ـ ـ نعم ربما یفھم ذلک من انہ اذا کان السنۃ فی الرکوع الصاق الکعبین و لم یذکروا تفریجھما بعدہ فالافضل بقاؤھما ملصقین فی حالۃ السجود ایضاً
وفی تقریرات الرافعی:(2/240،رشیدیة)
قول الشارح :(و یسن الصاق الکعبین) قال الشیخ ابو الحسن السندی فی تعلیقتہ علی الدرر: ھذہ السنۃ انما ذکرھا من ذکرھا من المتاخرین تبعاً للمجتبی ـ ـ ـ وکان بعض مشائخنا یری انھا من اوھام صاحب المجتبی ـ ـ ـ قلت :و لعل الشیخ ابا الحسن لحظ الی الاثار الواردۃ فی ان التراوح بین القدمین فی الصلاۃ مطلقاً افضل من الصاقھما
وکذافی السنن الکبری للبیہقی:(2/166،168،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی نیل الاوطار للشوکانی:(2/286،دارالباز مکہ)
وکذافی تلخیص الحبیر:(1/618،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(24/204،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/848،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدرالمختار:(2/259،رشیدیہ)
وکذافی اعلاءالسنن:(3/41،ادارة القرآن)
وکذافی الشامیہ:(2/163،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:71