الجواب حامداً ومصلیاً
مردوں کیلئے نماز میں بھی اور نماز کے علاوہ بھی ہر حال میں ٹخنے چھپانا گناہ کبیرہ ہے نماز میں اس کی قباحت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہےچنانچہ حدیث میں ہے کہ نماز میں ٹخنے ڈھانپنے والے کی نماز ہی قبول نہیں ہوتی۔
لما فی صحیح البخاری : (2 /861 ، قدیمی)
عن ابی ھریرۃعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ما اسفل من الکعبین من الازار فی النار
وفی سنن ابی داؤد: (1 / 93 ، المیزان)
عن ابی ھریرۃ قال بینما رجل یصلی مسبلا ازارہ قال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذھب فتوضأ فذھب فتوضأ ثم جاء قال اذھب فتوضأ فذھب فتوضأ ثم جاء فقال لہ رجل یا رسول اللہ مالک امرتہ ان یتوضأ قال انہ کان یصلی وھو مسبل ازارہ وان اللہ جل ذکرہ لا یقبل صلوۃ رجل مسبل ازارہ
وکذافی صحیح المسلم: (2 /203 ،رحمانیہ )
وکذا فی الفقہ الا سلامی وادلتہ: ( 2/ 988، رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة: (5 / 333،رشیدیہ )
وکذا فی البحرالرائق : (8 /349 ،رشیدیہ )
وکذا فی سنن ابن ماجہ: ( 255 ،قدیمی )
وکذا فی مشکوة المصابیح: (2 /386 ،رحمانیہ )
وکذا فی صحیح البخاری : (2 /860 ،قدیمی )
وکذا فی صحیح المسلم: (2 / 203 ،رحمانیہ )
واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر: 155