الجواب حامداًومصلیاًومسلماً
نماز میں ثناء پڑھنا سنت ہے اور سنت چھوڑنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا لہذا صورت مسئولہ میں بغیر سجدہ سہو کے نماز ہو جائے گی۔
لما فی التنویر والدر(2/207،رشیدیہ)
وسننھا )ترک السنۃ لا یوجب فساداً ولا سھواً بل اساءۃ لو عامداً غیر مستخف․
وفی الشامیۃ تحت قولہ :(لا یوجب فساداًولاسھواً )ای: بخلاف ترک الفرض فانہ یوجب الفساد ،وترک الواجب فانہ یوجب سجود السھو
وفی مراقی الفلاح(450،قدیمی کتب خانہ)
لترک واجب )بتقدیم،اوتأخیر ،اوزیادۃ او نقص لا سنۃ لان الصلاۃ لا توصف بالنقصان علی الاطلاق بترک سنۃ․
وکذا فی فتاویٰ الھندیہ(1/72،126،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید(1/279،الطارق)
وکذا فی خلاصہ الفتاویٰ(1/51،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ(2/655،رشیدیہ)
واللہ اعلم باصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
22/5/1443-2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:68