الجواب حامداً ومصلیاً
عام رواج تو یہ ہے کہ لڑکی والے لڑکے کو کپڑے دیتے ہیں اور لڑکے والے لڑکی کو دیتے ہیں یہ صرف مباح ہے کوئی ضروری نہیں ہے اس میں کوئی جائز اور نا جائز والی بات بھی نہیں ہے ،جو دینا چاہیں ٹھیک ہے ،البتہ ایک حدیث پاک میں آتا ہے کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک جوڑا تھا تو مدینہ میں جب کسی لڑکی کی شادی ہوتی اور اسے دلہن بنانا ہوتا تھا تو وہ عاریتاًامی جان رضی اللہ عنہا سے جوڑا منگوا لیتی اور شادی کے بعد واپس کر دیتی ،اس حدیث سے تو بظاہر یہی سمجھ آتا ہے کہ جوڑا لڑکی والوں کی طرف سے ہو ،لیکن اگر لڑکی والے غریب ہیں اور لڑکے والے وسعت رکھتے ہیں تو لڑکے والوں کو چاہیے کہ لڑکی والوں کا خیال رکھیں اور مطالبات سے بھی گریز کریں تاکہ ان پر بوجھ نہ ہو ،اسی طرح اگر لڑکے والے غریب ہیں اور لڑکی والے وسعت رکھتے ہیں تو لڑکی والوں کو چاہیے کہ ان کا خیال رکھیں۔
لما فی الصحیح للبخاری: (1 /460،رحمانیہ)
عن ایمن الحبشی رضی اللہ عنہ قال دخلت علی عائشۃ وعلیھا درع قطر ثمن خمسۃ دراھم فقالت ارفع بصرک الی جاریتی انظر الیھا فانھی تزھی ان تلبسہ فی البیت وقد کان لی منھن درع علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فما کانت امراۃ تقین بالمدینۃ الا ارسلت الی تستعیرہ.
وفی السنن اللکبری للبیھقی: (6 /146،دارالکتب العلمیہ)
عن ایمن قال:دخلت علی عائشۃ وعندھا جاریۃ لھاعلیھا درع قطر ثمنہ خمسۃ دراھم، فقالت:ارفع بصرک الی جاریتی انظر الیھا فانھی تزھی ان تلبسہ فی البیت وقد کان لی منھن درع علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما کانت امراۃ تقین بالمدینۃ الا ارسلت الی تستعیرہ
واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/20-2019/2/26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:27