سوال

واجبات نماز میں ایک واجب بیان کیا جاتا ہے کہ “فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں کو قرأت کے لیے مقرر کرنا “مفتی صاحب از راہ کرم اس واجب کی وضاحت فرما دیں

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

اس کی وضاحت یہ ہے کہ پہلی دو رکعتوں میں سورۃفاتحہ اور قرأت کرنا واجب ہے اگر پہلی دو رکعتوں میں سے کسی میں قرأت چھوٹ گئی توواجب چھوٹنے کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہو گا ۔لیکن واضح رہے اگر فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت یا دونوں میں قرأت کرنا بھول جائے تو اگلی رکعتوں میں قرأت کر لے اور اس تاخیر واجب کی وجہ سے آخر میں سجدہ سہو کر لے ۔

لما فی المحیط البرھانی :
فنقول:القرأۃ وجبت فی الاولیین بصفۃ ان یفتتح بفاتحۃ الکتاب، ویرتب علیھا السورۃ،فاذاترک الفاتحۃ فی الاولیین لا یمکنہ ان یقضیھا کذالک ،لانہ لا یزاد علی الفاتحۃ فی الرکعتین الاخریین علی مرۃ واحدۃ،واذا ترک السورۃ فی الاولیین امکنہ القضاء ،لان الفاتحۃمشروع فی الاخریین فیقرأھا ویبنی السورۃ علیھا ،کما فی الرکعۃ الاولی ،فیمکنہ القضاء بمثلہ ۔
(المحیط البرھانی :2/53،54،م:دار احیاء تراث )
وفی بدائع الصنائع :
فصل :اما الواجبات الاصلیۃ فی الصلاۃ فستۃ:منھا قراءۃ الفاتحۃ والسورۃ فی صلاۃ ذات رکعتین ،وفی الاولیین من ذوات الاربع والثلاث حتی لو ترکھما او احدھما ،فان کان عامدا کان مسیئا،وان کان ساھیا یلزمہ سجود السہو وھذا عندنا۔
(بدائع الصنائع :1/394،م:رشیدیہ)
(کذا فی تنویر الابصار وشرحہ:رد المحتار :2/181تا188،م:رشیدیہ)
(کذا فی المحیط البرھانی :2/309،312،م:داراحیاءتراث)
(کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:2/56،57،وایضا:387،388،م:فاروقیہ)
(کذا فی البحرالرائق:1/515،516،وایضا:162،163،م:رشیدیہ)
(کذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:2/808،809،وایضا:1109،م:رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1440،2019/1/20
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:95

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔