سوال

ٹی وی یا موبائل پر لائیو کرکٹ میچ اور دیگر پروگرام دیکھنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

ٹی وی یا موبائل پر بوقتِ ضرورت ایسے پروگرام دیکھنے کی گنجائش ہے جو ناجائز مناظر اور موضوعات سے پاک ہوں، لیکن کرکٹ میچ دیکھنا درج ذیل مفاسد کی وجہ سے ناجائز ہے: (1)میچ دیکھنے والے کو دینی اور دنیوی کسی قسم کا فائدہ نہیں ہوتا۔ (2)وقت اور پیسہ کے ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ دیکھنے والا ایسے مناظر دیکھ بیٹھتا ہے جنہیں دیکھنا حرام ہے۔ (3)دورانِ میچ، میچ دیکھنے والے آپس میں ناجائز شرطیں لگاتے ہیں۔ (4)میچ دیکھنے کے شوقین یا تو نمازیں چھوڑدیتے ہیں، یا غفلت و بےتوجہی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔

لما فی تکملہ فتح الملھم: (4/164، ط: مکتبہ دار العلوم کراتشی)
اما التلفزیون و الفدیو فلاشک فی حرمۃ استعمالھما بالنظر الی مایشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ …و لکن ھل یتاتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون و الفدیو خالیاً من ھذہ المنکرات باسرھا، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویراً؟ فان لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ فیہ وقفۃ.و ذالک لان الصور المحرمۃ ماکانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیئ …اما الصورۃ التی لیست لھا ثبات و استقرار و لیست منقوشۃ علی شیئ بصفۃ دائمۃ، فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ.و یبدو ان صورۃ التلفزیون و الفدیو لاتستقر علی شیئ
و فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (1/659، ط: رشیدیہ)
فقال الحنفیۃ: تارک الصلوۃ تکاسلا فاسق یحبس و یضرب –علی المذھب- ضربا شدیدا حتی یسیل منہ الدم حتی یصلی او یموت فی السجن
و فی الموسوعہ الفقھیہ: (35/337، ط: علوم اسلامیہ)
اللھو فی اللغۃ: “کل باطل الھی عن الخیر و عمایعنی” …الاصل فی ھذہ المسئلۃ ھو قول النبی صلی اللہ علیہ و سلم: “کل شیئ یلھو بہ ابن آدم فھو باطل الا ثلاثا: رمیہ عن قوسہ، و تادیبہ فرسہ، و ملاعبتہ اھلہ”. و ذالک لانہ افاد ان کل مایتلھی بہ الانسان ممالایفید فی العاجل و الآجل فائدۃ دینیۃ فھو باطل، و الاعتراض فیہ متعین
و کذا فی الشامیہ (6/348، ط: ایچ ایم سعید)
و کذا فی القرآن الکریم (سورہ المائدہ: ع:13، الآیہ: 104)
و کذا فی القرآن الکریم (سورہ الماعون: الآیہ: 4الی5)
و کذا فی القرآن الکریم (سورہ النور: ع: 3، الآیہ: 30الی31)
و کذا فی الھندیہ (5/352، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (40/341، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (39/407، ط: علوم اسلامیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
03/06/1442/ 2021/01/17
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:174

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔