الجواب حامداً ومصلیاً
اگر اچھی سروس کی گاڑی ہو اور وہ راستے میں سواری وغیرہ نہیں اٹھاتے ،ان کا اصول یہی ہے کہ ہم اسٹاپ ٹو اسٹاپ کرایہ لیں گے اگرچہ راستہ میں کوئی سواری اتر ہی کیوں نہ جائے اور سواریاں بھی اس پر بخوشی راضی ہوں تو ان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، البتہ عام گاڑیاں جو راستے سے بھی سواریاں اٹھاتی رہتی ہیں تو ان کے لیے سواری کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس طریقہ پر زائد کرایہ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔
لما فی البزازیة علی ھامش الھندیة:(5/66، رشیدیہ)
ان رکبت الی موضع کذا فبدرھم والی موضع کذا فبدرھمین والی موضع کذا فثلاثۃ دراھم یجوز ولا یجوز فیما زاد علی الثلاثۃ
وکذافی درر الحکام شرح مجلة الاحکام:(1/536،535،المکتبة العربیة)
وکذافی الھندیة:(4/413،414،رشیدیہ)
وکذافی مجلة الاحکام العدلیة:(89،قدیمی)
وکذافی التاتارخانیہ:(15/18،فاروقیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(6/11،سعید)
وکذافی غمز عیون البصائر:(2/360،ادارة القرآن)
وکذافی حاشیة تبیین الحقائق:(5/107،امدادیة)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 48