سوال

پاگل آدمی خودکشی کر لے تو کیا حکم ہے؟کیا اس کی موت شہادت کی موت ہے یا خودکشی کی؟روایات میں خودکشی سے متعلق جو وعیدات آئی ہیں یہ شخص بھی ان وعیدات کا مستحق ہو گا ؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

پاگل آدمی اگر خودکشی کر لے تو وہ ان وعیدوں کا مستحق نہیں ہوگا جو احادیث میں منقول ہیں کیونکہ وہ معذور ہے،ایسے شخص کو شہید نہیں کہا جائے گااور اس کاغسل و جنازہ وغیرہ ہوگا۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(227،البشری)
فمن قتل وھو مجنون او صبی لا یثبت لہ احکام الشہید
وفی الموسوعةالفقھیة :(16/101،علوم اسلامیہ)
رفع القلم عن ثلاثۃوالجنون الأصلی لا یفارق العارض فی شیء من الأحكام
وفیہ ایضا :(16/106،علوم اسلامیہ)
رفع القلم عن ثلاثۃ: عن النائم حتى یستیقظ، وعن الصبی حتى یحتلم، وعن المجنون حتى یعقل
وکذافی الشامیة :(3/127،رشیدیہ)
وکذافی العالمکیریة:(1/163،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق :(2/350،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/447،حقانیہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
یاسر عرفات غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/9/1442/2021/4/25
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 55

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔