سوال

پرانی اینٹیں دے کر نئی اینٹیں خریدنا،برابر سرابریا کمی زیادتی کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں پرانی اینٹیں دے کر نئی اینٹیں خریدنا جائز ہے،خواہ برابر سرابرہو یا کمی زیادتی کے ساتھ ہوبشرطیکہ معاملہ نقد ہوادھار نہ ہو

لما فی فقہ البیوع : ( 2/1174  ،معارف القرآن )
ان بیعت العددیات او المذروعات بجنسھا فالتفاضل جائزمثل ان یباع کتاب بکتابین او ثوب بثوبین ولکن لا یجوز النسیئۃ
وفی شرح المجلة ( 2/444  ،رشیدیہ )
واما الفضل الحکمی وھو النساء فیکفی فی تحریمہ وجود احدھمافقط،وتوجیہ ذلک فی الفتح والزیلعی فان وجد احرم الفضل والنساء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان وجد احدھما فقط ای القدر وحدہ کالحنطۃ بالشعیر او الجنس وحدہ کالھروی بھروی مثلہ حل الفضل فیجوز بیع کر بر بکری شعیر حالا وھروی بھرویین حالا، وحرم النساء
وکذافی الھدایة : ( 3/83  ،رحمانیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 5/3701  ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی: (4 /234  ،طارق )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة : ( 22/68  ،علوم الاسلامیہ )
وکذافی حاشیة حاشیة الطحطاوی : (3 /108  ،رشیدیہ )
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار: (7 /421  ،رشیدیہ )
وکذافی خلاصة الفتاوی : (3 /102  ،رشیدیہ )
وکذا فی کنز الدقائق: ( 248  ،حقانیہ )
واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

11/8/1444/4/3/2023

جلد نمبر : 29 فتوی نمبر : 101

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔